وفاقی حکومت نے رواں سال مون سون کے دروان بارشوں اور تباہ کن سیلاب سے مالی نقصانات کی تفصیلات جاری کر دیں۔
دستاویز کے مطابق جون تا ستمبر سیلاب سے ملکی معیشت کو 822 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ رواں مالی سال کےدوران جی ڈی پی شرح نمو میں 0.3 سے0.7 فیصد کمی متوقع ہے۔ سیلاب کے باعث ترقی کی شرح 4.2 فیصد سےکم ہو کر 3.5 فیصد تک آسکتی ہے۔
زراعت کے شعبے میں نقصانات کا تخمینہ 430 ارب روپے لگایا گیا، زرعی شعبے کی شرح نمو 4.5 سے کم ہو کر 3فیصد رہ جانے کا امکان ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی سے درآمدی اخراجات اور تجارتی خسارہ بڑھے گا۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال آنے والا تباہ کن سیلاب مہنگائی میں اضافے کا سبب بنا، اگست سے اکتوبر تک مہنگائی کی شرح میں 2.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بارشوں و سیلاب نے انفراسٹرکچر کی تباہی کی شکل میں307 ارب روپے کا نقصان دیا، مجموعی قومی پیداوار میں کمی اور سپلائی چینز متاثر ہونے سےمہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔





















