چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے برطانوی جریدے کے بشریٰ بی بی پر الزامات کو گھٹیا قرار دے دیا۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے سماء سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا بشری بی بی کیخلاف برطانوی جریدے کےآرٹیکل پر قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں، بشری بی بی ایک گھریلو خاتون تھیں اور اس وقت جیل میں ہیں،بشریٰ بی بی پر پہلے بھی الزامات غلط ثابت ہوئے،وہ بری ہوئیں،ایسے ہتھکنڈوں سے بشریٰ بی بی کو توڑا نہیں جاسکتا۔
بیرسٹر گوہر نےمزید کہا اس آرٹیکل میں بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی کردارکشی کی گئی،بشریٰ بی بی تمام ترکوششوں کے باوجود بانی کے ساتھ ہیں،برطانوی جریدے کےآرٹیکل کی مذمت کرتے ہیں، برطانوی جریدہ کوئی صحیفہ نہیں،بی بی سی جیسے ادارے کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی مانگنا پڑی ہے۔
برطانوی میگزین "دی اکانومسٹ" کی بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ، تہلکہ خیز انکشافات
دی اکانومسٹ کےمطابق بانی پی ٹی آئی نےاقتدار کےحصول کیلئےسیاست کے بجائے توہم پرستی کا راستہ اپنایا،اپنی روحانی مشیر سے شادی کرکےپورے ملک کو حیران کردیا،بشریٰ بی بی نےمشورہ دیا تھا کہ مجھ سے شادی کریں تو وزیراعظم بنیں گے۔
رپوٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی ٹی وی پربیٹھ کرکہتے رہےکہ ان کا تعلق روحانی رہنمائی تک محدود ہے،عمران خان ایک سابق ساتھی نےکہاکہ بشریٰ بی بی کالا جادو کرتی تھیں،ملازمین کے ذریعے عملیات کیلئے کالے جانور کا سر اور دیگر سامان مانگواتی تھیں۔






















