بانی پی ٹی آئی کی توہم پرستی سے متعلق دی اکانومسٹ میگزین کے ہوشربا انکشافات سامنے آگئے،دی اکانومسٹ کی ذیلی میگزین 1843 نے طویل تحقیقاتی مضمون شائع کردی۔
دی اکانومسٹ کےمطابق بانی پی ٹی آئی نےاقتدار کےحصول کیلئےسیاست کے بجائے توہم پرستی کا راستہ اپنایا،اپنی روحانی مشیر سے شادی کرکے پورے ملک کو حیران کردیا،بشریٰ بی بی نےمشورہ دیا تھا کہ مجھ سے شادی کریں تو وزیراعظم بنیں گے،بانی پی ٹی آئی ٹی وی پربیٹھ کرکہتے رہےکہ ان کا تعلق روحانی رہنمائی تک محدود ہے،عمران خان ایک سابق ساتھی نےکہاکہ بشریٰ بی بی کالا جادو کرتی تھیں،ملازمین کے ذریعےعملیات کیلئے کالے جانور کا سر اور دیگر سامان مانگواتی تھیں
دی اکانومسٹ کےمطابق بشری بی بی سابق وزیراعظم اورآرمی چیف کی ملاقاتوں میں بھی موجود رہتی تھیں،کابینہ کے ایک رکن نے بتایا کہ بشری بی بی حکومتی امور میں مداخلت کرتی تھیں،بشریٰ بی بی کی کرپشن بے نقاب کرنے پر بانی پی ٹی آئی نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو عہدے سے ہٹایا۔
دی اکانومسٹ کےمطابق ریاستی امورمیں بشریٰ بی بی کا فیصلہ حرف آخرسمجھا جاتا تھا،سابق وزیر اعظم کاطیارہ بشریٰ بی بی کی اجازت کے بغیر اڑان نہ بھرتا تھا،اہلیہ کے کہنے پر عمران خان نے وفادار ساتھیوں اور ملازمین سے دوری اختیار کی۔
بانی پی ٹی آئی نےاقتدارکیلئےمذہب کا لبادہ اڑھے رکھا،سابق وزیراعظم صحافیوں کے ساتھ ملکی امور کےبجائے کرکٹ اور اپنے معاشقوں پرزیادہ بات کرتے تھے،بانی پی ٹی آئی پارٹی کو ایک منظم جماعت کے بجائے ایک کلٹ کی طرح چلاتے رہے،حکومت میں آنے سے پہلے بلندو بانگ دعوے کیے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا،کرپش کے کیسز نے ان کے صاف شفاف ہونے کے دعوؤن کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
بشریٰ بی بی کی بہن مریم کا دعویٰ ہے کہ دونوں بہنیں کوئین میری کالج سے پڑھائی کیں،کوئن میری کالج لاہور کے ریکارڈ میں دونوں بہنوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔






















