انٹیلی جنس اداروں نے اسلام آباد خودکش حملہ کیس میں ایک درزی کو بھی گرفتار کرلیا
ذرائع کےمطابق حملہ آور نےخودکش جیکٹ کچھ دن درزی کے پاس رکھوائی،درزی کو معلوم تھا کہ یہ بارود سےبھری جیکٹ ہے،خودکش جیکٹ پشاورمیں تیارہوئی،بارودی مواد بھی وہیں پہنچایا گیا،خودکش جیکٹ ملزم پشاور سے گڑ کی بوری میں چھپا کر لایا،ملزم نے 3 دن تک جیکٹ ایک درخت کے نیچے چھپائے رکھی۔
ذرائع کےمطابق مرکزی سہولت کار نےخوارجی سے رابطوں کا اعتراف کرلیا،مرکزی سہولت کار سے تفتیش میں مزید انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ جوڈیشل کمپلیکس حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشت گرد سیل کے 4 کارندے گرفتار
اس سے قبل انٹیلی جنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی میں جوڈیشل کمپلیکس حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشت گرد سیل کے 4 کارندوں کو گرفتار کیا۔
خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا نے دوران تفتیش اعتراف کرلیا،ساجد اللہ کا کہنا ہے کہ حملےکی ہدایت ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج کےکمانڈر سعیدالرحمان عرف داد اللہ نےدی،سعید الرحمن چرمانگ، باجوڑکا رہائشی اس وقت افغانستان میں مقیم ہے۔
ساجد اللہ عرف شینا کامزید کہنا ہےکہ سعید الرحمان عرف داد اللہ باجوڑ کے علاقے نواگئی کے لیے ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف ہے،سعید الرحمان نے ٹیلیگرام ایپ کےذریعے رابطہ کرکے خودکش حملہ کرانے کا کہا،حملے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔
داد اللہ نے ہی ساجد اللہ عرف شینا کو خودکش بمبار عثمان عرف ’’قاری“ کی تصاویر بھیجیں، ساجد اللہ عرف شینا کا کام خودکش بمبارعرفان عرف قاری کو پاکستان میں وصول کرنا تھا، خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کا تعلق شنواری قبیلے سے تھا۔



















