پارلیمنٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی شقوں کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دیدی۔
قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا ہے، ترامیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں 4 ارکان نے ووٹ دیا۔ پی ٹی آئی نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ جے یو آئی کے 4 ارکان نے مخالفت میں ووٹ ڈالے۔
سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ ترامیم کی شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن کا ایوان میں احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 6 میں ترمیم کی گئی ۔ موجودہ چیف جسٹس ہی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے۔ آئندہ سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے چیف جسٹسز میں سے جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوگا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی جس کی حمایت میں 231 ووٹ آئے جبکہ تحریک کی مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔
تحریک کے بعد اب قومی اسمبلی میں سپیکر ایاز صادق نے آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی جس کیلئے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر حمایت کا اظہار کیا ، آئینی ترمیم کی شقوں کی حمایت میں 233 جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے ۔
شق وار منظوری کا عمل مکمل ہونے کے بعد وزیر قانون نے 27 ویں ترمیم حتمی منظوری کیلئے پیش کی جس کیلئے ڈویژن آف ہاؤس کے تحت ووٹنگ کے تحت ووٹنگ کروائی گئی، ترمیم کے حق میں 234 ووٹ ڈالے گئے ۔
ترمیم کے سینیٹ سے منظور شدہ بل کی چار شقیں حذف کی گئیں ہیں جبکہ تین میں ترمیم اور ایک شق کا اضافہ کیا گیاہے۔ موجودہ چیف جسٹس ہی چیف جسٹس آف پاکستان کہلائیں گے ، صدر مملکت، آڈیٹر جنرل، چیف الیکشن کمشنر کا حلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے ، موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سینیئر جج چیف جسٹس آف پاکستان کہلائے گا۔






















