اسلام آبادڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کےقریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 27 زخمی ہوگئے۔
پولیس کےمطابق جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آورکاسرمل گیا،دھماکےمیں زخمی افراد کو پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا،شہید ہونے والے بارہ افراد کی شناخت کا عمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے
پولیس کا کہنا ہےکہ دھماکےسےمقام سےشواہداکٹھےکیےجارہےہیں۔پولیس کےمطابق دھماکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں میں ہوا،دھماکے کی آواز پولیس لائنز ہیڈکوارٹر تک سنی گئی۔
دھماکےکی ابتدائی رپورٹ
دھماکےکی ابتدائی رپورٹ کےمطابق خودکش حملہ آورپیدل کچہری کےباہر پہنچا،حملہ آور کچھ دیر تک گیٹ کے قریب بیٹھا رہا،اندر جانے والوں کی چیکنگ جاری تھی،بظاہر لگتا ہےحملہ آور کچہری کے اندر جانا چاہتا تھا،حملہ آور سیکیورٹی چیکنگ کے باعث رک گیا،جس کے بعد اس نے سڑک پر دھماکے سے خود کو اڑا لیا،دھماکے کے وقت 35 سے 40 افراد موقع پر موجود تھے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی جائے وقوعہ پر پہنچے،جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کےحملے میں بہت سی چیزیں لنک ہیں، جلد شواہد سامنے لائیں گےآج کے وقت میں اس حملے کے بہت سے میسجزہیں، 2 ہفتےبعدکوئی بھی گاڑی ٹیگ کےبغیر اسلام آباد داخل نہیں ہوگی،پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے،کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
صدرمملکت آصف علی زرداری
صدرمملکت نے خودکش دھماکےکی مذمت کرتے ہوئےجاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں، وطن عزیزسےبیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کیا جانا ضروری ہے
وزیراعظم شہباز شریف
وزیرِاعظم شہبازشریف نےبھی کچہری میں بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،کہاکہ مجھ سمیت پوری قوم کی تمام تر ہمدردیاں شہدا کےاہل خانہ کےساتھ ہیں،بھارتی پراکسیز کےنہتے شہریوں پر دہشتگردانہ حملے قابل مذمت ہیں،تحقیقات کی ہدایت کردی، ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔



















