پاکستان کیلئے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کی منظوری کے معاملہ پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبرمیں ہوگا۔
عالمی مالیاتی ادارے کےدسمبر میں ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبرمیں پاکستان کیلئےای ایف ایف پروگرام کےتحت ایک ارب ڈالرکی تیسری قسط کی منظوری دی جائےگی،جس میں کلائمیٹ فنانسنگ کی مدمیں 20 کروڑ ڈالر ملیں گے،یہ اضافی فنڈز کلائمیٹ ریزیلینس فنانسنگ کے تحت حاصل ہوں گے۔
پاکستان اورآئی ایم ایف کےدرمیان اسٹاف لیول معاہدہ پندرہ اکتوبرکوطےپایا تھا،وزارت خزانہ کے حکام پُرامید ہیں کہ جاری قرض پروگرام کےتحت اگلی قسط منظوری دے دی جائے گی۔
آئی ایم ایف کےفریم ورک کے تحت پاکستان کے ذمہ قرضوں سے متعلق رپورٹ سامنے آ گئی
دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان سے سیلاب کے باعث نظرثانی معاشی ڈیٹا مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف ذرائع کے مطابق حالیہ سیلاب کے پاکستانی معیشت پر اثرات کاخدشہ ہے، سیلاب سے پاکستان کی جی ڈی پی 0.25 سے 0.50 فیصد کم ہو سکتی ہے۔
ذرائع کےمطابق سیلاب کے باعث زرعی شعبےکی پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی سوا 3 سے ساڑھے 3 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ایف بی آر کے ٹیکس اہداف پر بھی نظرثانی کا امکان موجود ہے،آئی ایم ایف کو ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے پرضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ذرائع کےمطابق نظر ثانی ٹیکس منصوبہ آئی ایم ایف کوپیش کیاجائےگا،پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال بڑھنے کا امکان ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 سال میں جی ڈی پی کے ایک فیصد پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔





















