سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا افغانستان سے مطالبہ ہے ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغانستان نے دنیا سے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کا دوحہ میں معاہدہ کیا ہوا ہے، پاکستان نے پچھلے دنوں افغانستان کی سرحد اور اندر جا کر حملے کئے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے افغانستان سے دہشتگردی کے ثبوت دیئے ہیں، افغان طالبان تسلیم کرتے ہیں لیکن لکھ کر دینے کو تیار نہیں، پاکستان چاہتا ہے افغان طالبان لکھ کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان نمائندہ وفد کئی بار راضی ہوا،کابل سے رابطہ کیا تو نئی بات کی گئی، کابل میں موجود لوگوں کو بھارت کی حمایت حاصل ہے اور مداخلت کاسامنا ہے، بھارت بھی حالات خراب کرنے میں سرگرم ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ فیصلہ کیا گیا کہ بفرزون قائم کی جائے گی، افغانستان تیار ہوتا ہے تو ملکر بفرزون قائم کی جائے گی، اگر افغانستان تیار نہ ہوا تو ہم خود سے بفرزون قائم کریں گے، اب ممکن نہیں رہا کہ ہم یکطرفہ طور پر دہشتگردی کا شکار ہوتے رہیں ، بفرزون کیلئے قطر،ترکیہ،سعودی عرب غیر جانبدار ثالث کے طور پر ذمہ داری ادا کریں گے ۔
سینیٹر نے کہا کہ خواجہ آصف نے پاکستان کے دفاع کے حوالے سے جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، افغانستان میں جہاں دہشتگردوں کی تربیت ہو رہی ہے،ان تمام علاقوں کو نشانہ بنایاگیا، پاکستان نے پچھلے دنوں افغانستان کی سرحد اور اندر جا کر حملے کئے۔



















