فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے 2018-19 کے سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق انکوائری رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کردی ، شہباز شریف نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پرال سسٹم کا بین الاقوامی کنسلٹینسی فرم سے فارنزک آڈٹ کروانے کی ہدایت کر دی ۔ وزیراعظم نے ایف بی آر میں حالیہ اصلاحات کی بین الاقوامی پذیرائی پر ادارے کی تعریف بھی کی ۔
ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت جائزہ میں ٹیکس فراڈ کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس فراڈ ماضی کے متروک ڈیجیٹل نظام، نگرانی کی کمی اور غیر محفوظ ڈیٹابیس کی وجہ سے ہوا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث اداروں، کمپنیوں اور افراد کی نشاندہی کے لیے جامع تحقیقات کی جائیں ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی کمیٹی تین ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرے ۔
وزیراعظم نے آئندہ رپورٹ میں شناخت ہونے والے مجرمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ۔ اجلاس کو پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں جاری اصلاحات پر بریفنگ میں بتایا گیا واشنگٹن میں ہونے والی ورلڈ بینک کی سالانہ کانفرنس میں ایف بی آر اصلاحات کی کیس اسٹڈی کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔حکام کے مطابق نئے ڈیجیٹل نظام میں ایسی صلاحیت موجود ہے کہ معلومات میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں صارف کا آئی پی ایڈریس خودکار طور پر درج ہو جائے گا، جس سے ٹیکس فراڈ ناممکن ہو جائے گا۔




















