حکومتی کنٹرول ختم ہونے کے بعد گزشتہ ڈیڑھ سال میں 60فیصد ادویات کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، سروے میں 30 فیصد ادویات کی قیمتیں کم ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق عام استعمال کی ساٹھ فیصد ادویات کی قیمتوں میں تیس فیصد سے زیاد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سروے میں ڈی ریگولیٹ ہونے کے بعد تیس فیصد ادویات کی قیمتیں کم ہونے کا ذکر بھی شامل ہے، ذرائع کے مطابق کراچی،لاہور،پشاور،کوئٹہ، ملتان اور اسلام آباد میں کیے گئے ۔
سروے میں سو کمپنوں کی دو سو کے قریب دوائیوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ عالمی ادارہ صحت کی رائے بھی لے لی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزارت صحت ادویات کی قیمتوں سے متعلق سروے رپورٹ وزیراعظم کو بھجوائے گی۔ سروے کمپنی کو رواں سال دس اگست کو قیمتوں کا جائزہ لینے کی ذمہ دارای سونپی گئی تھی۔ نگران دور حکومت میں نصف کے قریب ادویات کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم کردیا گیا تھا۔





















