وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی کے خلاف میدان میں نہیں اتارا گیا، حق نہ ملے تو پرامن احتجاج ہمارا حق ہے، اس کا استعمال کرینگے، دہشت گرد ایک بار چلے گئے توانہیں پھر واپس لاکر بسایا گیا، ہم اس پالیسی کے خلاف تھے اور ہیں، مقامی عمائدین کو طالبان کے پاس بھیجیں کہ وہ بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ صنم جاوید کی رپورٹ آئی ہےلیکن میں مطمئن نہیں، آئی جی کو کہا مہمانوں کےخلاف غلط ایف آئی آر ہوئی ہیں،انہیں گرفتار نہ کیاجائے، خیبرپختونخوا میں انتقامی سیاست نہیں ہوگی، سات لاکھ افغان مہاجرین واپس بھیجے،12لاکھ اب بھی یہاں ہیں، افغان مہاجرین کو عزت کےساتھ واپس بھیجیں گے، بارڈر بندش سے جانے والوں کو بہت سے مسائل ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ کابینہ بنانے کےلیے بانی پی ٹی آئی کی منظوری چاہیے، مجھے بحیثیت قبائلی اور پختون ٹارگٹ کیا گیا، حکومت چلانے نہیں نظام بدلنےآیا ہوں، ایک ہفتےمیں اپنے لوگوں کے پاس جاؤں گا، علی امین گنڈاپور کے تعاون کے باوجود کچھ نہیں ملا، این ایف سی پورا نہیں دیتے،ضم اضلاع کو حصہ نہیں ملا، ووٹ بانی کوملا ہے تو پالیسی بھی انہی کی چلے گی، یہاں سے لوگ مشورہ کرنےنوازشریف کے پاس لندن جاتے تھے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ افغانستان جارحیت کرتا ہےتوہم اپنے لوگوں کےساتھ کھڑے ہیں، ترقیاتی کام ہمارا ہےکسی اور کا کیا کام؟ مزمل اسلم رہیں گے باقی کسی کا نہیں کہا گیا، بانی کی رہائی کیلیے جو راستہ بہتر لگےگا وہ اختیار کریں گے۔



















