ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دوحا میں اہم مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے ، بات چیت کا سلسلہ کل بھی جاری رہے گا، قطر ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے، مذاکرات میں فریقین امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کا محور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کا خاتمے ہے ، پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی پر بھی بات چیت جاری ہے ۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن افغان طالبان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عالمی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔
پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کریں اور فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کریں۔
ذرائع کے مطابق فریقین امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ معاہدے کے نکات فائنل ہونے کے بعد باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔
یاد رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی شب افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کا پاک فوج کی جانب سے بھر پور اور شدید جواب دیا گیا جس میں 200 سے زائد افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد مارے گئے جبکہ پاک فوج کی جانب سے متعدد افغان چوکیوں پر قبضہ بھی کیا گیا ۔پاک فوج نے دہشتگردوں کی کئی تشکیلیں بھی تہس نہس کیں اور افغان طالبان کا ایک چلتا ہوا ٹینک بھی تباہ کیا ۔
15 اکتوبر کو پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سیز فائر کا معاہد ہوا جو کہ کل شام چھ بجے ختم ہوا ، جس میں مزید توسیع کر دی گئی تھی ۔






















