پاکستان نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی سرحدی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ جوابی کاروائیاں عوامی نقصانات سے پرہیز کو مدنظر رکھ کر کی گئیں۔ افغان رجیم کی درخواست پر دو دن کی جنگ بندی ہوئی ہے۔ جو آج شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔
ترجمان نے کہا عارضی جنگ بندی کا مقصد تعمیری بات چیت سے مسئلے کا مشکل مگر قابل عمل حل تلاش کرنا تھا، پاکستان اپنی سرزمین پر افغان شہریوں کی موجودگی پر قانون کے مطابق اقدامات کر رہا ہے۔ امید رکھتے ہیں کہ ایک روز افغان عوام افغان نمائندوں پر مبنی سچی حکومت دیکھیں گے۔
افغانستان اور بھارت کے مشترکہ اعلامیہ میں حقائق کو مسخ کیا گیا۔ افغان عبوری وزیر خارجہ کی جانب سے دہشت گردی کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔
شفقت علی خان نے کہا کہ افغان طالبان سے متعلق کسی ملک کو کسی قسم کی معلومات کی فراہمی کے پابند نہیں، ایسے واقعات کے حوالے سے دوست ممالک کو آگاہ رکھا جاتا ہے۔ اسلام آباد اور کابل میں سفارت خانے فعال ہیں، دونوں ممالک کے سفیر ایک دوسرے کے ممالک میں موجود ہیں، دونوں ممالک کےدرمیان معمول کے رابطے جاری ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کابل میں کوئی آئین موجود نہیں ہے،ایک گروہ طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں ہے، سب کو علم ہے بھارت افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے کی سرپرستی کر رہا ہے، بھارت کا منفی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیانات کسی سے چھپے نہیں ہیں۔






















