رائل کورٹ آف جسٹس نے عادل راجہ کو بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر ساڑھے تین لاکھ پاونڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عادل راجا کے الزامات کے کوئی شواہد نہیں ملے ، عادل راجہ 50 ہزار پاونڈ ہرجانہ ادا کریں گے جبکہ عدالتی اخراجت کی مد میں بھی تین لاکھ پاونڈ ہرجانہ دینا ہوگا۔
کیس کی سماعت رائل کورٹ آف جسٹس میں ہوئی،فیصلے میں کہا گیاہے کہ عادل راجاکی سوشل میڈیا پر پوسٹس نے راشد نصیر کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے تھے۔
برطانوی عدالت نے عادل راجا کی دفاعی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عادل راجا نے 2022 میں 9 پبلی کیشنزمیں راشد نصیر پر سنگین الزامات لگائے تھے، مقدمہ کا ٹرائل 21 جولائی 2025 کو شروع ہوا تھا، برطانوی عدالت نے عادل راجا کے الزامات بے بنیاد اور ہتک عزت قرار دےدیئے۔
برطانوی جج نے کہا کہ عادل راجا کے دعوؤں کے کوئی شواہد نہیں ملے،ارشد شریف قتل کیس سے متعلق بھی عادل راجا کے الزامات مسترد کر دیئے گئے ۔عدالت نے کہا کہ کیس کاتعلق صرف 2 افراد کے درمیان ہے کسی اور کے نہیں۔





















