سماء کی خب رپر نوٹس لیتے ہوئے بونیر کے ڈپٹی کمشنر نے نیشنل بینک آف پاکستان کو سیلاب متاثرین کے چیک کلیئر کرنے کا حکم جاری کر دیا ، نیشنل بینک ڈگر برانچ کو مراسلہ بھیج دیا گیا ۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق کُل 666 چیکس کی بارش و سیلاب متاثرین کو ادائیگی کی ہدایت کی گئی ہے، 94 مکمل تباہ گھروں، 161 جزوی متاثرہ گھروں کے چیکس کلیئر ہوں گے۔ اس کے علاوہ 411 مکمل تباہ شدہ دکانوں کے چیکس بھی کلیئر کرنے اور ادائیگی کے مکمل اور تاریخ وار ریکارڈ رکھنے کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔
پیر بابا کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے ، ضلعی انتظامیہ کے مطابق 953 دکانیں تباہ ہوئیں، 1900 متاثر ہوئیں، 900 دکانداروں کو چیک دیے گئے، 750 تاحال کلیئر نہ ہو سکے، کروڑوں کا نقصان سہنے والے کو بھی صرف 5 لاکھ کا چیک ملا ہے ۔
صدر ٹریڈ یونین کا کہناتھا کہ پانچ لاکھ میں تو ایک شٹر بھی نہیں لگتا۔ دکاندروں نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ پیر تک چیک کلیئر نہ ہوئے تو احتجاج ہو گا، صرف پیر بابا بازار میں نقصان 1 ارب سے زائدکا ہواہے ۔



















