سوشل میڈیا کےذریعے ریاستی اداروں کیخلاف بیانیہ بنانے کےکیس میں نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نےسوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید سے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کردیا
ذرائع کےمطابق فلک جاوید سے پوچھا جائے گا یہ بیانیہ کس ایماء پرترتیب دیا،بیانیہ ترتیب دینے کے پس پردہ کیا محرکات ہیں،فلک جاوید این سی سی آئی کو دومقدمات میں مطلوب تھیں،گرفتاری کے بعد فلک جاوید کا ریمانڈ منظور ہوا تھا۔
دوسری جانب فلک جاوید نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کو سیشن کورٹ میں چیلنج کردیا،فلک جاویدنے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کی وساطت سے اپیل دائر کی،عدالت نےاین سی سی آئی اےسےکل مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت نےمدعی مقدمہ صوبائی وزیرعظمیٰ بخاری کو بھی نوٹس جاری کردیا،اپیل کنندہ کاکہنا ہےکہ مجسٹریٹ نے فلک جاویدکاجسمانی ریمانڈغیرقانونی دیا،استدعا ہےکہ سیشن کورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کے جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔






















