جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی نے ویڈیو لنک سماعت کا بائیکاٹ کردیا۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کےذریعے پیش ہوئے،وکیل صفائی فیصل ملک کی اپنےموکل سےاکیلے میں بات کرنے کی استدعا کی،عدالت نے اجازت دی تو بانی پی ٹی آئین نے مقدمہ اورقانونی نکات پر مشاورت کے بجائے سیاسی گفتگو کرنا شروع کر دی۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نےاعتراض اٹھاتے ہوئےکہا وکلائے صفائی سیاسی گفتگو کے بجائے عدالتی کاروائی کی طرف آئیں،اِس پر بانی پی ٹی آئی نے سماعت کا بائیکاٹ کر دیا،ان کی ہدایت پر وکلائے صفائی بھی اُٹھ کر باہر چلےگئے۔
مرکزی کیس کی سماعت سے پہلے بانی پی ٹی آئی کی ذاتی حیثیت میں پیشی کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی،جو عدالت نے مسترد کر دی،وکیل صفائی فیصل ملک کا کہنا تھا فیئر ٹرائل کے لئے ملزم کی ذاتی حیثیت میں حاضری ضروری ہے،ہم صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے خلاف ہائیکورٹ جائیں گے۔
وکیل صفائی فیصل ملک نےکہا ویڈیو لنک پر ٹرائل کرنا بالکل غیرقانونی ہےاس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،آدھا ٹرائل جیل میں ہوا اورکوئی وجہ نہیں کہ آپ جیل سے اٹھا کے ٹرائل ادھر لے آئے ہیں یہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے
پراسیکیوٹرظہیرشاہ نےبتایا کہ جیل ٹرائل کو اےٹی سی منتقل کرنا پنجاب حکومت کا ایگزیکٹو آرڈر ہے، اس پرنظرثانی عدالتی ہی کرسکتی ہے،اگر اپ اس نوٹیفکیشن سےسیٹسفائیڈ نہیں ہیں تو اپ اس کو متعلقہ فورم پہ چیلنج کریں اپ جائیں اس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں اور پھرجو بھی ہائی کورٹ کا آرڈر ہوگا۔
کیس کی سماعت کےدوران استغاثہ کےمزید دوگواہان سب انسپکٹرسلیم قریشی اورمنظورشہزاد نے اپنے بیان ریکارڈکرادیئے،جج امجد علی شاہ نےمزید 10گواہان کو طلب کرتے ہوئےسماعت 23 ستمبرتک ملتوی کر دی۔




















