وزیردفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا پاک سعودی دفاعی معاہدے کا دائرہ کاردوسرے ممالک تک بڑھےگا۔
وزیردفاع خواجہ آصف نےعرب میڈیا کو انٹرویو میں کہا پاک سعودی دفاعی معاہدےکادائرہ کاردوسرے ممالک تک بڑھےگا،اس دفاعی معاہدےکی کوئی ذیلی یا خفیہ شرائط نہیں ہیں، ایک کے خلاف جارحیت دوسرے کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
مزیدکہاسکیورٹی کےلیےیہ ممالک میلوں دور کسی دوسرے ملک پرانحصار نہیں کرسکتے،وہ کسی خود مختار ملک کی جانب دیکھیں گےجو انھیں تحفظ دینےکی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو،دنیا نیوکلئیر جنگوں سے محفوظ ہے،اُمید کرتا ہوں آئندہ بھی ایسا کچھ نہیں ہو گا۔
یاد رہےکہ وزیراعظم شہبازشریف کی حالیہ سعودی عرب کے دوران محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی جس دوران دونوں رہنماؤں نے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیئے ، معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی بڑھانے اور امن کے حصول کےلیےمشترکہ عزم کی عکاسی کرتاہے۔
اعلامیہ کےمطابق پاکستان اور سعودی عرب کےدرمیان دہائیوں پرمحیط تاریخی شراکت داری ہے،معاہدے کامقصد دونوں ممالک کےدرمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے،معاہدہ کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع اور تحفظ کو مضبوط بنانا ہے،معاہدے کے مطابق کسی بھی ایک ملک پرجارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔






















