کراچی کے سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال میں جدید لیپرواسکوپک سرجریز کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا، اسپتال میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی سے 58 سالہ مریض کا لیپرواسکوپک انگوائنل ہرنیا کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس پیچیدہ مگر کامیاب آپریشن کی سربراہی سینئر سرجن ڈاکٹر سید احمد سلطان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کی، ڈاکٹروں کے مطابق، عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے ایبڈومنل وال کمزور ہوجاتی ہیں، جس سے آپریشن کی جگہ نیا ہرنیا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے مریضوں میں اگر عام طرح آپریشن کیا جائے تو مستقبل میں انسیشنل ہرنیا کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اسی وجہ سے عمر رسیدہ مریض کے پیٹ کو مضبوط بنانے کیلئے میش کا استعمال کیا گیا تاکہ ایبڈومنل والز کو بہتر سپورٹ فراہم کی جاسکے۔
سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راشد سراج خانزادہ نے بتایا کہ اس کیس میں روایتی کھلے آپریشن کے بجائے لیپرواسکوپک پروسیجر استعمال کیا گیا، جو ایک جدید اور منیمل انویسیو تکنیک ہے، اس طریقۂ کار میں پیٹ میں بڑا کٹ لگانے کے بجائے صرف ناف کے ذریعے باریک آلات داخل کرکے آپریشن کیا جاتا ہے، اس جدید تکنیک کے فوائد میں کم تکلیف، تیز رفتار صحتیابی اور انفیکشن کے خطرات میں نمایاں کمی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ منیمل انویسیو لیپرواسکوپک انوائنل ہرنیا ریپئر ایک ایسا آپریشن ہے، جس میں صرف ایک چھوٹا سا کٹ لگایا جاتا ہے، اس میں کیمرے کی مدد سے ہرنیا کا علاج کیا جاتا ہے، اس طریقۂ علاج سے مریض کو کم وقت کیلئے اسپتال میں رہنا پڑتا ہے، وہ جلد صحتیاب ہوجاتا ہے، آپریشن کا نشان بھی نہیں رہتا اور انسیشنل ہرنیا جیسی پیچیدگیاں بھی پیدا نہیں ہوتیں۔
ڈاکٹر راشد سراج خانزادہ کے مطابق مریض کی عمر اور صحت کے پیش نظر یہ طریقۂ کار انتہائی موزوں سمجھا گیا، آپریشن کے بعد مریض کی حالت تسلی بخش ہے اور وہ تیزی سے صحتیاب ہو رہا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال میں پتے اور اپینڈکس کی لیپرواسکوپک سرجریز کی جاتی تھیں، تاہم انوائنل ہرنیا کے کیس کو پہلی بار کامیابی سے انجام دیا گیا ہے، اس کامیابی کے بعد اسپتال میں مزید پیچیدہ لیپرواسکوپک سرجریز کے راستے کھل گئے ہیں۔
ڈاکٹر راشد سراج خانزادہ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اور دیگر جنرل سرجریز بھی لیپرواسکوپی سے کی جائیں گی تاکہ عوام کو جدید اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں، اس ترقی سے قطر اسپتال پر ناصرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ یہ سرکاری اسپتالوں میں جدید سرجری کے فروغ کیلئے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر راشد سراج خانزادہ نے اس کامیابی کو عوام کیلئے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مریض کم وقت میں صحتمند زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔





















