وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہےکہ پی ڈبلیوڈی اور یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کیا گیا، کابینہ منظوری سےمزید اداروں کےحوالےسےبھی فیصلےکیےجائیں گے ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2022 میں عالمی برادری نےہماری مدد کی ہم قابل عمل منصوبے نہ بنا سکے، دریاؤں کے کنارے ہوٹل اور گھر کیسے بن گئے؟ 2022 میں سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، اس وقت بھی درجنوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں ،اس بار بھی8 سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔
وزیر خزانہ نے کہا سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے مختلف مراحل ہیں، اس وقت ریلیف اینڈ ریسکیو چل رہا ہے، بحالی، ری اسٹرکچرنگ اور تعمیر نو بعد کا مرحلہ ہے۔پاکستان میں سبسڈی کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کیاجاتاہے،اداروں میں رائٹ سائزنگ کا اصل مقصد کرپشن کا خاتمہ ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پی ڈبلیوڈی اور یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کیا گیا، کابینہ منظوری سےمزید اداروں کے حوالے سے بھی فیصلےکیےجائیں گے۔ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے رولز اینڈ ریگولیشنز بنیں گے، کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کان اور آنکھیں کھلے رکھنے ہوں گے، پانڈا بانڈ اس سال کے آخر میں جاری کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ہفتے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے ہمراہ چین کا دورہ کریں گے ۔





















