کراچی میں موسلادھار بارش نے شہر کو شدید متاثر کردیا جبکہ مختلف حادثات میں 7 افراد زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔
صوبائی دارالحکومت میں بارش کے باعث شہر کا نظام درہم برہم ہوگیا، سڑکیں تالاب بن گئیں اور کے الیکٹرک کے 800 فیڈرز ٹرپ کرگئے ، گلستان جوہر میں گھر کی دیوار گرنے سے خاتون اور 2 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ اورنگی ٹاؤن میں دیوار گرنے سے 8 برس کا بچہ جان سے گیا۔
نارتھ کراچی میں گھر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص زندگی کی بازی ہارگیا اور ڈی ایچ اے خیابان بخاری میں گلی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔
ایئرپورٹ اور اطراف میں سب سے زیادہ 125 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شہر کے مختلف علاقوں بشمول شارع فیصل، نرسری، ملیر، تین ہٹی، لیاقت آباد، ناظم آباد، فائیو اسٹار چورنگی، حسن اسکوائر، غریب آباد اور یونیورسٹی روڈ پر پانی جمع ہونے سے سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔
لازمی پڑھیں۔ سندھ میں شدید بارش اور سیلاب کی وارننگ جاری
ملیر اور مضافاتی علاقوں میں دو سے تین فٹ پانی جمع ہوا جبکہ شارع فیصل پر پانی کے تیز بہاؤ میں موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں پھنس گئیں۔
تین ہٹی اور لیاقت آباد میں گڑھوں کی وجہ سے متعدد گاڑیاں پھنسی رہیں۔
وقفے وقفے سے جاری بارش نے دفاتر سے گھروں کو جانے والے شہریوں کو سڑکوں پر پھنسا دیا۔
حسن اسکوائر، پرانی سبزی منڈی اور یونیورسٹی روڈ پر بدترین ٹریفک جام رہا جہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
ترقیاتی کاموں اور پانی کی نکاسی نہ ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
ضلعی انتظامیہ کے لیے برساتی پانی کی نکاسی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے اور مرکزی شاہراہوں سے پانی نکالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے، جس سے شہری شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سندھ کے مختلف اضلاع میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔






















