امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن بھارت پر سیکنڈری ٹیرف میں اضافہ کر سکتا ہے، اس کا انحصار صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جمعے کو الاسکا میں ہونے والی ملاقات کے نتائج پر ہوگا۔
بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ روسی تیل خریدنے پر بھارت پر سیکنڈری ٹیرف لگائے گئے ہیں اور اگر معاملات درست نہ ہوئے تو پابندیاں یا سیکنڈری ٹیرف مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے روس سے تیل اور ہتھیار خریدنے پر بھارت پر موجودہ 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ مزید 25 فیصد جرمانہ عائد کیا تھا۔
امریکا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرانے کی کوشش کر رہا ہے ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ماسکو نے امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو سنگین نتائج ہوں گے۔
بھارت کی جانب سے سستا روسی تیل خریدنے کے اضافے نے بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا ہے،جبکہ تجارتی مذاکرات بھی متاثر ہوئے ہیں۔روس کا تیل 2024 میں بھارت کی مجموعی درآمدات کا 35 سے 40 فیصد رہا، جو 2021 میں صرف 3 فیصد تھا۔
امریکی مذاکرات کار 25 اگست کو بھارت پہنچیں گے جبکہ 27 اگست سے بھارت پر 50 فیصد نیا ٹیرف نافذ ہوگا، جسے ماہرین دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر عملی پابندی قرار دے رہے ہیں۔






















