پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اسمبلی میں مسلسل دوسرے روز احتجاج کرتے ہوئے بانی سے ملاقات نہ کرانے پر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔
اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے کہا کہ بانی سے ملاقات نہ کرانا استحقاق کی خلاف ورزی ہے جبکہ اسد قیصر نے جیل مینوئل پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی سے سیاسی مشاورت ضروری ہے، انہیں ڈاکٹروں اور اہلخانہ سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ مطالبات پورے نہ ہونے تک ایوان میں نہیں بیٹھیں گے اور عوامی اسمبلی کا انعقاد کیا جائے گا۔
اسپیکر ایاز صادق نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں، وہ سہولت کاری کو تیار ہیں۔
ایاز صادق نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے معاملے کے حل کے لیے کمیٹی قائم کر دی اور واضح کیا کہ بات چیت گرینڈ جرگے میں نہیں، پارلیمنٹ میں ہوگی۔
تاہم، اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
ملٹری کورٹس کے فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے سے متعلق بل پر بحث ہوئی اور اسد قیصر نے کہا کہ اس حوالے سے بل جمع کرایا گیا تھا جو ایجنڈے میں شامل نہیں جس پر اسپیکر نے بل آئندہ ہفتے پیش کرنے کی ہدایت دی۔
پی ٹی آئی کے رکن شاہد خٹک نے قبائلی علاقوں میں ممکنہ فوجی آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام امن چاہتے ہیں، آپریشن نہیں۔
اسپیکر نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو ہدایت دی کہ ارکان کے تحفظات دور کریں اور حقائق سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔






















