قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024ء منظور کرلیا۔
منگل کو چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ کوئی رکن شریک نہ ہوا، اجلاس میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024ء متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا جس کی کسی رکن نے مخالفت بھی نہیں کی۔
اجلاس میں سی آر پی سی ترمیمی بل 2025 بھی پیش کیا گیا تاہم وزارت قانون کی استدعا پر اسے آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا گیا۔
وزارت قانون کے حکام کے مطابق آئندہ اجلاس میں وزیر قانون بل سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گے۔
دوسری جانب شرمیلا فاروقی نے کریمنل ترمیمی بل 2024ء پیش کیا جس میں انہوں نے قتلِ خطا کو ناقابل ضمانت بنانے کا مطالبہ کیا۔
شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اسلام آباد میں حادثات کے نتیجے میں 128 افراد جان سے گئے مگر بعض ملزمان بغیر سزا کے بچ نکلے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون نے ایک شخص کو مارا اور اب وہ بری ہوگئی ہیں۔
اس موقع پر عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ حادثہ امیر یا غریب دیکھ کر نہیں ہوتا، خطا تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے، جس پر شرمیلا فاروقی نے جواب دیا کہ پھر تو اس قانون میں جو سزا دی گئی ہے وہ بھی ختم کر دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قتلِ خطا میں سزا 10 سال ہے مگر دفعہ قابل ضمانت ہونے کے باعث انصاف متاثر ہورہا ہے۔
طلال چوہدری کی گفتگو
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پارلیمنٹ کے گیٹ بند کئے گئے تھے، پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی تھی مگر عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پورے اسلام آباد میں صرف تین مقامات پر چھوٹے پیمانے پر احتجاج ہوا اور محض 8 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے پاکستان آنے کے خواہشمند ہی نہیں، میں نے ان سے ویزہ درخواست کا ٹریکنگ نمبر مانگا مگر فراہم نہیں کیا گیا۔






















