راولپنڈی میں غیرت کے نام پر جرگے کے حکم پر 18 سالہ سدرہ بی بی کے قتل کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور جوڈیشل مجسٹریٹ شمع یاسین نے گرفتار 6 ملزمان کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک تفتیش مکمل کی جائے ورنہ مزید ریمانڈ نہیں دیا جائے گا۔
ملزمان میں جرگے کے سربراہ عصمت اللہ، مقتولہ کے والد عرب گل، سسر محمد صالح عرف سلیم، لوڈر رکشہ کے مالک مانی گل، مقتولہ کے پہلے شوہر ضیا الرحمان، بھائی ظفر اللہ، اور چچا شامل ہیں۔
تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا اور پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ قتل میں استعمال ہونے والا تکیہ اور مقتولہ کی نعش قبرستان منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لوڈر رکشہ برآمد کرنے کے لیے ریمانڈ دیا جائے۔
وکیلِ صفائی نے ریمانڈ کی مسلسل توسیع پر اعتراض اٹھایا لیکن عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام ملزمان کو 9 اگست کو دوبارہ پیش کیا جائے۔
پولیس نے تفتیش کے دوران اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج، مقتولہ کے کپڑے، اور جرگے کے سربراہ کے گھر سے برآمد ہونے والی کلاشنکوف شامل ہیں۔
تفتیشی ٹیم نے آزاد کشمیر سے بھی شواہد اکٹھے کیے ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔






















