پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان کا کہنا ہے کہ امریکا میں انتہاپسند ریپبلکنز اور ڈیمو کریٹس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔
سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا اسٹیو وٹکوف سے رابطہ ہوا ہے، جوہری معاملات دوبارہ میز پر رکھے گئے ہیں اور آج امریکا کے وقت کے مطابق اعلیٰ مشاورتی اجلاس ہوگا۔
سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ صدرٹرمپ کو دیئے گئے آپشن میں فوجی اسٹرائیک شامل ہے جبکہ ایران نے کہا ہے اگر حملہ کیا گیا تو جوابی کارروائی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نامکمل ایجنڈا ہے، امریکا خود کو طاقتور دکھا رہا ہے لیکن کمزور محسوس کر رہا ہے، امریکا نے برکس ممالک کو ایسے ہی دھمکی نہیں دی متبادل مالیاتی نظام بن رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ ہو سکتی ہے اور تباہ کن ہوگی جبکہ پاکستان بھی زد میں آسکتا ہے، جنگ ہوئی تو ہمارے لیے کئی مسائل پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ چین ایران سے 90 فیصد کروڈ آئل خرید رہا ہے، ایران کا چین پر انحصار ہے، چینی نمائندے نے کہا امریکا ٹیرف کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا ، ایران اور گرین لینڈ کا معاملہ دیکھیں تو مرکزی نشانہ چین ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معرکہ حق کے بعد بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہوا۔





















