اسلام آباد ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نےبحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز نیلامی روکنے کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نےنیب کوبحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز نیلام کرنےکی اجازت دے دی،چیف جسٹس سرفراز ڈوگرکی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کر دیا۔
گزشتہ روز کی سماعت کا احوال
بحریہ ٹاؤن کےوکیل فاروق ایچ نائیک نےمؤقف اپنایاکہ نیلامی کا اشتہار غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔زین ملک نے نیب کےساتھ پلی بارگین کی تھی اوربحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں بطورضمانت رکھی گئیں تھیں۔ فاروق ایچ نائیک کےمطابق پلی بارگین منسوخ کرنےکی نیب کی کارروائی ابھی زیرالتوا ہےاورقسطیں نہ دینے پر نیب نے پلی بارگین ختم کرنے کا نوٹس دیا جو قانونی نہیں۔
انہوں نےعدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کوئی ملزم نہیں اس لیےاس کی جائیداد نیلام کرنا نیب کے دائرہ اختیار سےباہر ہےدوسری جانب نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نےمؤقف اختیار کیا کہ جب اصل ملزم اشتہاری ہو تو ضامن کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بحریہ ٹاؤن کی درخواست قابلِ سماعت ہی نہیں۔



















