کراچی ڈیفنس فیز6میں فائرنگ سےوکیل خواجہ شمس الاسلام کےقتل کامقدمہ درج کرلیاگیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہےکہ مقدمہ تھانہ درخشاں میں مقتول کے بھائی خواجہ فیصل کی مدعیت میں درج کیاگیا،مقدمےمیں قتل،اقدام قتل اورانسداددہشت گردی کی دفعہ شامل کی گئی ہے،خواجہ شمس السلام اپنے بیٹے دانیال کےہمراہ خیابان راحت میں واقع قرآن اکیڈی میں نمازجمعہ اورنمازجنازہ میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
نمازجنازہ کےبعدخواجہ شمس الاسلام اپنےبیٹےکےہمراہ مسجدسےنیچےآتےہوئےاپنےجوتےپہن رہےتھےاس دوران ملزم نےفائرنگ کی،ملزم عمران آفریدی نے آتشی اسلحے سے دوفائر کیے،ایک گولی خواجہ شمس السلام اور ایک گولی مقتول کے بیٹے دانیال السلام کولگی،ملزم عمران آفریدی رش کافائدہ اٹھاتےہوئےفرارہوگیا،
کراچی میں سینئر وکیل شمس الاسلام پرگولیاں برسانے والے ملزم نے اعتراف جرم کرلیا،ملزم عمران آفریدی نےکہا قانون سےمایوس ہوکروالد کی موت کا بدلا لیا،پولیس نےقتل کے محرکات جاننے کے لیے چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی بنادی،ملزم کے فرار ہونے سے روکنے کےلئے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا۔



















