میانمار کے فوجی حکمرانوں نے ملک میں نافذ مارشل لاء ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یہ ایمرجنسی 2021 سے ملک میں نافذ تھی۔
میانمار کے قومی دفاع اور سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد فوجی رہنما من آنگ ہلینگ نےکہا کہ دسمبر میں عام انتخابات ہوں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ واضح نہیں کہ کیا واقعی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔
میانمار کے فوجی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے پرعزم مزاحمت کی گئی ہے، انہوں نے ہنگامی حالت ختم کر دی ہے اور اب ملک کو آئندہ سیاسی عمل کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سویلین حکمرانی کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انتخابات ہنگامی حالت کے تحت نہیں ہو سکتےدسمبر میں عام انتخابات ہوں گے۔
واضح رہے کہ یکم فروری 2021 کو میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ سو چی اور ان کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (NLD) کے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
فوج نے دعویٰ کیا کہ 2020 کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، جس میں NLD نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ آزاد مبصرین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں کوئی بڑی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔
فوج نے ایمرجنسی نافذ کر کے تمام حکومتی اختیارات قانون سازی، عدلیہ، اور انتظام یہمن آنگ ہلینگ کو سونپ دیے،جو weاسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کونسل کے سربراہ بنے تھے۔






















