امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو آج دنیا بھر میں 6 بڑی جنگیں جاری ہوتیں جن میں پاک-بھارت جنگ سب سے بڑی ہوتی۔
اسکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے یہ جنگ انتہائی خطرناک ہوتی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاک-بھارت جنگ بندی میں انہوں نے برطانیہ سے بھی مدد لی خصوصاً وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے تعاون سے معاملات کو حل کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کے کردار کی بدولت یہ تنازع جنگ کی شکل اختیار نہ کر سکا۔
واضح رہے کہ یہ 28 واں موقع ہے جب صدر ٹرمپ نے پاک-بھارت جنگ بندی میں اپنے کردار کا ذکر کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم دونوں جانتے ہیں کہ ہمیں غزہ جنگ بندی تک پہنچنا ہے، برطانوی وزیراعظم کے ساتھ غزہ کے مسئلے پر بات کی ہے، غزہ کیلئے ہم نے 60 ملین ڈالر خوراک کیلئے فراہم کئے ، ہم غزہ کے لوگوں کیلئے انسانی بنیادوں پر مدد کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کچھ مشکلات ہیں، امید ہے کہ خوراک اُن لوگوں تک پہنچے گی جنہیں ضرورت ہے، غزہ میں جنگ بندی مذاکرات میں مشکلات درپیش ہیں، میں نیتن یاہو سے بات کر رہا ہوں اور ہم مختلف منصوبے بنا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ غزہ میں بچوں کو کھانا ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں حقیقی بھوک ہے، ہم بہت سی جانیں بچا سکتے ہیں، غزہ میں خوراک کی تقسیم کے مراکز بغیر کسی پابندی کے کھلے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ گذشتہ روز بڑی ڈیل کی، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تجارتی ڈیل ہورہی ہے ، ہماری چھوٹے ایٹمی پلانٹس میں دلچسپی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں روس کیلئے 10 یا 12 دن بعد کی نئی ڈیڈلائن مقرر کررہا ہوں، روس اور یوکرین جنگ میں روزانہ بڑی تعداد میں فوجی مارے جارہے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری توانائی سے متعلق خطرناک اشارے بھیجے ہیں، اگر ایران نے دوبارہ نیوکلیئر پروگرام شروع کیا تو ہم اسے فوراً ختم کر دیں گے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہم فارما کے معاملے میں برطانیہ کے ساتھ تعاون کریں گے، ہم فارما پر ٹیرف کو برطانیہ کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔
اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں بھوکے بچوں کی تصاویر ناقابل بیان ہیں، حماس فلسطین میں مستقبل کی حکومت میں بالکل کوئی حصہ نہیں لے سکتی۔






















