پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی کی امپورٹ کے معاملے پر چیئرمین ایف بی آر کو آڑھے ہاتھوں لیا، رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی امپورٹ پر ٹیکس 18 سے کم کرکے 0.2 فیصد کردیا گیا، یہ ایک بہت بڑا شوگر اسکینڈل ہے۔ جنید اکبر خان نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر صاحب یہ کیا ڈرامہ ہے؟، جب عوام کا مسئلہ آئے تب تو آپ کہتے ہیں آئی ایم ایف نہیں مان رہا، سرمایہ کاروں کی بات آئی تو آپ نے آئی ایم ایف کی بھی نہیں سنی۔
پی ٹی آئی رہنماء جنید اکبر خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 5 لاکھ ٹن چینی کی امپورٹ کا معاملہ زیر بحث آیا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اس وقت چاروں صوبوں میں چینی کی ریٹیل پرائس 183 روپے ہے، 5 لاکھ ٹن چینی امپورٹ کی سمری بھیجی، 3 لاکھ ابھی منگوائی جائے گی۔
رکن پی اے سی ریاض فتیانہ نے سوال اٹھایا کہ شوگر ایکٹ پر کسی صوبے میں عمل نہیں کیا جاتا، شوگر ایکٹ کے مطابق شوگر ملز 15 نومبر تک چلنا ضروری ہیں، چینی کا مسئلہ نہیں تھا تو ساڑھے 7 لاکھ ٹن ایکسپورٹ کی اجازت کس نے دی؟، پھر اب 5 لاکھ ٹن چینی امپورٹ کرنے کی اجازت کس نے دی؟۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے ایک ایس آر او جاری کرکے امپورٹ پر ٹیکس بھی ختم کردیئے، چینی کی امپورٹ پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے 0.2 فیصد کردیا، یہ ایک بہت بڑا شوگر اسکینڈل ہے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی کی امپورٹ پر چیئرمین ایف بی آر کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ جنید اکبر نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر صاحب یہ کیا ڈرامہ ہے؟، جب عوام کا مسئلہ آئے تب تو آپ کہتے ہیں آئی ایم ایف نہیں مان رہا، سرمایہ کاروں کی بات آئی تو آپ نے آئی ایم ایف کی بھی نہیں سنی، چند سرمایہ کار ہیں جو کسی کی نہیں سنتے، انہی کو نوازا جارہا ہے، یہ کیا ڈرامہ ہے؟۔
رکن پی اے سے خواجہ شیراز نے سوال اٹھایا کہ 7.5 لاکھ ٹن چینی کس میکانزم کے تحت ایکسپورٹ کی گئی؟۔ چیئرمی ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ فوڈ کی امپورٹ یا ایکسپورٹ کے معاملات وزارت خوارک دیکھتی ہے، کابینہ نے فیصلہ کیا ہم تو فیصلے کے پابند ہیں، ہمیں حکم دیا گیا کہ امپورٹ پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کردیں، سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کردی۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایڈوانس ٹیکس ساڑھے 5 فیصد ہوتا ہے اسے ہم نے 0.25 فیصد کیا۔
چیئرمین پی اے سی نے پوچھا کیا اب اس پر آئی ایم ایف کچھ نہیں کہے گا؟۔ راشد لنگڑیاؒ نے جواب دیا کہ آئی ایم ایف کیوں نہیں کہے گا، وہ ضرور بات کریں گے۔
رکن پی اے سی نوید قمر نے کہا کہ حکومت چینی کی قیمت متعین کرسکتی ہے اور نہ ہی اسے یہ کام کرنا چاہئے، کارٹلز کو کس نے اجازت دی کہ چند لوگ مل کر مارکیٹ پر قبضہ کرلیں؟، مسابقتی کمیشن کیا کررہا ہے؟، اس نے شوگر کارٹلز کو کیوں نہیں دیکھا؟۔
معین عامر پیرزادہ کا کہنا تھا کہ کیا مراد علی شاہ کی طاقت ہے کہ وہ سندھ کی شوگر ملز کیخلاف ایکشن لیں؟، مریم نواز کی بھی پنجاب کی شوگر ملز کیخلاف کارروائی کرنے کی طاقت نہیں، شوگر ملز کیلئے لائسنس اوپن کیا جائے تاکہ کوئی بھی مل لگاسکے۔
سیکریٹری خوراک نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں تمام متعلقہ شراکت دار موجود ہوتے ہیں۔ رکن کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے پوچھا کہ کیا صارفین کا بھی کوئی نمائندہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں ہے؟۔ سیکریٹری خوراک نے جواب دیا جی نہیں، شوگر ایڈوائزری بورڈ میں کنزیومرز کا کوئی نمائندہ نہیں۔ معین عامر پیرزادہ نے کہا تو پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بورڈ میں تمام شراکت دار ہیں؟۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر خان نے سوال اٹھایا کہ شوگر کی امپورٹ کیلئے 2 سمریاں کیوں بھیجی گئیں؟۔ سیکریٹری خوراک نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے ایسا کیا گیا۔
ریاض فتیانہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’مختاریا گل ودھ گئی اے‘‘، اس حکومت کا یہ تیسرا اسکینڈل آگیا ہے، پہلا گندم اسکینڈل تھا، دوسرا بجلی اور اب یہ تیسرا چینی اسکینڈل ہے



















