ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہاہے کہ بلوچستان واقعے میں ملوث 20 میں سے 13 افراد کو گرفتار کر لیا گیاہے ، جس نے گولی ماری وہ لڑکی کا بھائی ہے جبکہ فیصلہ سردار شیرباز نے دیا جو کہ حراست میں ہے ۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ندیم ملک لائیو‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان واقعے میں 20 میں سے 13 افراد کو گرفتار کر لیا،مارنے والا لڑکی کا بھائی ہے، فیصلہ دینے والا سردار شیر باز بھی زیرحراست ہے، ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی گرفتاری کی گئی، وزیراعلیٰ نے کہا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج ہو گا، بلوچستان حکومت نے ہر قانون سازی میں اپوزیشن کو آن بورڈ لیا، ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، کیس میں کوئی سیاسی دباؤ نہیں لیں گے، مقتولین کی لاشوں کی ریکوری کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنماحافظ حمد اللہ نے کہا کہ جے یو آئی بلوچستان واقعے کی مذمت کرتی ہے ، لگ رہاہے کہ 27 ویں ترمیم آئے گی ، وفاق فاٹا کے مائنز اینڈ منرلز کو قبضے میں لینا چاہتا ہے ، 27 ویں ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت بھی بنانا چاہتے ہیں، 27 ویں ترمیم میں فاٹا انضمام کا خاتمہ اور اس کو وفاق کے کنٹرول میں لانا چاہتے ہیں، وفاق یا ادارے کے پی میں جو قانون بنانا چاہتے ہیں شائد وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے ، 27 ویں ترمیم میں شائد یہ شامل ہوگا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد فوری بعد بندہ سیاسی عہدے پر آجائے گا، ریٹائرمنٹ کے 2 سال بعد تک فرد سیاسی عہدہ نہیں لے سکتا ۔
مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے کہا کہ حافظ حمد اللہ کی قیاس آرائیاں ہیں، اس طرح کے قوانین منظور نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ظلم کرنے اور کروانے والوں کو سزائیں دینی چاہئیں، ہمارا عدالتی نظام کمزور ہے، 30،30سال ہو جاتے ہیں قتل کے ملزمان نہیں پکڑے جاتے۔






















