وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) پنجاب ریجن کے دورے کے دوران اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔
اجلاس میں پنجاب ریجن کے مختلف منصوبوں، نئے انٹرچینجز اور تعمیراتی امور پر اہم فیصلے کیے گئے جبکہ وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور سی ای او روڈا نے اجلاس میں شرکت کی۔
عبدالعلیم خان نے ایم ٹو سے منسلک انٹرچینجز اور دیگر منصوبوں میں روڈا کے اشتراک پر بریفنگ لی اور ملتان روڈ کے توسیع و تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو اہم ہدایات جاری کیں۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ لاہور-سیالکوٹ موٹروے کو کھاریاں اور اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور، سیالکوٹ، کھاریاں، اسلام آباد موٹروے اب 4 لین کی بجائے 6 لین کی ہوگی جس سے گوجرانوالہ، گجرات، کھاریاں، جہلم اور گوجرخان بھی منسلک ہوں گے۔
عبدالعلیم خان نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں کو تیزی سے مکمل کرے اور منصوبوں کی منصوبہ بندی آئندہ 30 سال کو مدنظر رکھ کر کی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے این ایچ اے کو ملتان روڈ سے رنگ روڈ تک زیر التوا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی کام پائیدار ہونے چاہئیں اور این ایچ اے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے۔
انہوں نے سینئر افسران کو مختلف منصوبوں میں بہتری لانے کی ہدایات دیتے ہوئے ہڈیارہ سے رنگ روڈ تک ملتان روڈ کو خوبصورت بنانے کا ٹاسک بھی سونپا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو بہترین سہولیات میسر ہوں۔





















