امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہےکہ ایران کی صورتحال پرقریبی نظرہے،مظاہرین کی ہلاکتیں ناقابلِ قبول ہیں،امریکی فوج بہت مضبوط آپشنز پر غور کررہی ہے،ایران کی جانب سے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کا پیغام کا ملا ہے۔
نیویارک ٹائمز کےمطابق ٹرمپ انتظامیہ کو ممکنہ ایرانی ردعمل کا خوف لاحق ہے،بریفنگ کے دوران حتمی فیصلہ نہ ہو سکا،امریکی صدر منگل کو مشیروں سے ملاقات کریں گے،صدرٹرمپ نےایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کےلیے ایلون مسک سے بات کرنے کا عندیہ دیا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نےمظاہروں کے دوران سیکیورٹی فوسز کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرے امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دے دیے،کہا بیرون ملک سے دہشت گردوں کو بھیجا گیا،مساجد کو آگ لگائی گئی،امن و امان خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔
ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بے قابو،جاں بحق افراد کی تعداد 538 ہوگئی،10 ہزار سے زائد مظاہرین گرفتار ہوچکے ہیں،مظاہرین کے حملوں میں 114 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے،صوبہ خراسان میں اسرائیلی ایجنسی موساد کے دو جاسوس گرفتار کرلیے گئے،گرفتار ملزمان سے جاسوسی کے آلات اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔





















