ایران میں دو ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں میں اموات کی مجموعی تعداد 538 ہوگئی۔
خبرایجنسی کے مطابق گزشتہ روز بھی تہران میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ شرپسند عناصر نے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ سرکاری عمارتوں میں پیٹرول بم پھینکے گئے۔ مظاہرین کے حملوں میں ایک سو نو سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکےہیں۔
ہیومن رائٹس گروپ کے مطابق ابتک 10 ہزار سے زائد مظاہرین گرفتار ہوچکے ہیں، ایرانی حکام کے مطابق مظاہرین کے حملوں میں 114 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ خراسان میں اسرائیلی ایجنسی موساد کے دو جاسوسوں کو گرفتار کرلیا گیا، گرفتار ملزمان سے جاسوسی کے آلات اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ باہر سے بھیجے گئے دہشت گردوں نے ایران میں ہنگامہ آرائی کی۔ شرپسندوں کو امریکا اور اسرائیل ہدایات دیتے رہے۔ مقامی میڈیا کو انٹرویو میں ایرانی صدر نے کہا کہ اپنے بچوں کو فسادیوں اور دہشت گردوں سے دور رکھیں۔ امن و امان خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔





















