سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے سندھ میں خواتین کیخلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی صورتحال پر رپورٹ جاری کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ سال 2024ء میں سندھ میں خواتین کیخلاف تشدد کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے تاہم کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملی۔
سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی سندھ میں خواتین کیخلاف بڑھتے ہوئے تشدد سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2024ء میں صوبہ بھر میں جنسی زیادتی، غیرت کے نام پر قتل، اغواء اور گھریلو تشدد کے مجموعی طور پر 3 ہزار 397 واقعات رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گھوٹکی میں زیادتی کے سب سے زیادہ 27 واقعات رپورٹ ہوئے، کراچی جنوبی میں 487 خواتین و بچیوں کے اغواء اور اغواء کرنے کی کوششیں سامنے آئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شکارپور میں غیرت کے نام پر قتل کے 23 کیسز جبکہ نوشہرو فیروز میں گھریلو تشدد کے 60 واقعات رپورٹ ہوئے۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا یہ صرف وہ کیسز ہیں جو پولیس کو رپورٹ کیے گئے، مقدمات میں سزاؤں کا نہ ہونا انصاف کے نظام میں گہرے نقائص کی نشاندہی کرتا ہے۔





















