وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے گی، ان کےبیٹوں کاحق ہے کہ وہ والدکی سیاست آگے بڑھائیں، بانی پی ٹی آئی کے بیٹے پُر امن تحریک چلائیں گے تو ٹھیک ہے اگر پُرتشدد تحریک ہو گی تو ان کوقانون کاسامناکرناہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ندیم ملک لائیو‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس حق میں ہوں کہ عمران خان کے بیٹے اگر سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی پارٹی کو لیڈ کرتے ہیں ، ہمیں تو پہلے ان کی طرف سے اس بات کے طعنے ملتے رہے ہیں کہ یہ مورثی سیاست ہے ، عمران خا ن کے بیٹوں کو حق ہے کہ وہ اپنے والد کی سیاست کو آگے بڑھانے کیلئے آئیں، وہ برطانوی شہری ہیں، پاکستان کے ویزے کیلئے درخواست دیں، انہیں آنے کی اجازت دی جائے گی ،وہ تمام قانونی تقاضے پورے کریں، اگر وہ اپنے والد کو ملنے آتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے قانون کے مطابق ملاقات کریں، اگر انہوں نے آ کر سیاسی تحریک کو چلانا ہے تو اگر وہ پرامن ہو گی تو ٹھیک ہے لیکن اگر پرُتشدد ہوگی تو انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، عمران خان کے بیٹے پاکستان آنے کیلئے قانونی ضابطوں کو پورا کریں تو انہیں آنے سے نہیں روکا جائے گا لیکن جو ہمارا خیال ہے اس کے مطابق وہ پاکستان نہیں آئیں گے ، اگر وہ آئیں گے تو اپنے والد کو ضرور ملیں گے لیکن وہ پھر کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے ۔
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ بارشوں کے حوالے سے 5 سے 10 سال کا منصوبہ بنانا چاہیے، ہر شہر کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، پلاننگ ڈویژن اس پر کام کر رہا ہو گا،احسن اقبال سے بات کروں گا، ترقی یافتہ ممالک میں بھی آفات آتی ہیں توتباہی ہوتی ہے، ہمارے خطے میں زیادہ قدرتی آفات نہیں آتیں۔ پچھلے 3 دن میں غیرمعمولی بارشیں ہوئیں، بارش زیادہ ہوتی ہے تو مشکلات ہوتی ہیں، جو آبادیاں نیچے کی طرف ہیں وہاں ڈرینج کا انتظام ہونا چاہیے، کہا جا رہا ہے کہ ہر سال اسی طرح بارشیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نکاسی آب کی خود نگرانی کر رہی ہیں، باقی صوبوں میں بھی بارشوں کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ستھرا پنجاب کے عملے کو واسا اور دیگراداروں کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہیے، وزیراعظم آج این ڈی ایم اے گئے تھے،ہدایات دی ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کے حکومت یا ن لیگ کے ساتھ مذاکرات نہیں چل رہے، وزیراعظم نے 3 بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن اپوزیشن نے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا، معرکہ حق کے دوران بھی وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کی، وزیراعظم نے اپوزیشن کو کہا اسپیکر چیمبر میں بیٹھیں وہ خودآنے کو تیار ہیں۔






















