صوبے کی سیاسی جماعتوں نے بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے معاملے کو اٹھا دیاہے اور تحریک منظم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، سردار اختر مینگل نے کوئٹہ پہنچتے ہی ایکٹ چیلنج کرنے کی تیاری شروع کردی ۔چناں چہ 14جولائی کو بلوچستان ہائی کورٹ میں ایکٹ کے خلاف آئینی درخواست بھی داخل کردی گئی ۔ اگلے روز اس مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا ۔ نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، جمعیت علما اسلام اور نوابزادہ لشکری رئیسانی مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025ب کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں پہلے ہی پٹیشن دائر کر چکے ہیں ۔
جمعیت علما اسلام ، نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی معاونت سےہی بل اسمبلی سے منظور ہوا ہے ۔ان جماعتوں نے عدالت سے رجوع بل کے پاس ہونے کے کئی مہینوں بعد کیا ہے ۔ البتہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اسمبلی میں نمائندگی نہیں رکھتی ۔بلوچستان اسمبلی نے مائنز اینڈ منرل بل مارچ 2025 کو منظور کر لیا تھا ۔ منظوری کے عمل میں حکومت کو سرے سے کوئی مشکل ہی پیش نہ آئی ۔ بل چیلنج کرنے والی جماعتوں نے منظوری کے وقت اسمبلی میں کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ خود ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس کے حامی تھے ۔ بلوچستان کی حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ نواز ،بلوچستان عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی اتحادی ہیں ۔جبکہ اپوزیشن جمیعت علماء اسلام ،بلوچستان نیشنل پارٹی ،نیشنل پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمن پر مشتمل ہے ۔
اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جمعت علما اسلام کے یونس عزیز زہری ہیں۔ حزب اختلاف کا حکومت کے ساتھ رویہ دوستانہ ہے۔ جمعیت علما اسلام کے رکن اسمبلی زابد ریکی نے مالی سال 2025-26 کی بجٹ منظوری پر وزیر اعلی ٰبلوچستان سرفراز بگٹی کو پھولوں کا ہار پہنایا اور گل پاشی کی ۔اس پر جے یو آئی کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے زابد ریکی کی پارٹی رکنیت معطل کی نیز انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ۔جے یو ائی کی طرف سے مائنز اینڈ منرل بل کی منظوری میں حمایت پر پارٹی کے اراکین اسمبلی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے تھے ۔مولانا فضل الرحمن نے بل کی منظوری میں ساتھ دینے میں برہمی کا اظہار کیا تھا ۔لیکن اس معاملے میں اب تک جمعیت کی جانب سے مزید کوئی تادیبی کارروائی سامنے نہیں آئی۔
قائمہ کمیٹی برائے معدنیات کے چیئرمین جے یو ائی کے رکن اسمبلی غلام دستگیر بادینی ہیں ۔فروری میں جب بل منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اسے قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا ۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین غلام دستگیر بادینی رخصت پر تھے اس بنا جے یو آئی کے رکن اسمبلی زابد ریکی کی سربراہی میں کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔کمیٹی نے معمولی ترامیم پیش کیں ۔ جس کے بعد 12 مارچ کو مسودہ کا قانون ایوان میں پیش ہوا ،اور اس طرح بل بغیر کسی مشکل کے پاس ہوا ۔وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی بات درست ہے کہ بل کی منظوری میں حز ب اختلاف نے پوری طرح ساتھ دیا ہے ۔انہوں نے باقاعدہ اسمبلی کے فلور پر تمام اراکین اور اپوزیشن کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ اب جے یو ائی کے اراکین اسمبلی مخصمے میں مبتلا ہیں کیونکہ پارٹی کی مرکز قیادت صوبہ خیبر پشتونخوا میں بھی اس بل کی مخالفت کر چکی ہےاور بلوچستان کی صوبائی قیادت نے بھی کھل کر مخالفت کر دی یہاں تک کہ عدالت میں بھی چیلنج کر دیا ۔
کیس کی پیروی کامران مرتضی ایڈوکیٹ کر رہے ہیں ۔بلوچستان اسمبلی میں جے یو آئی کے تمام اراکین سرمایہ دار طبقے سے ہیں ۔نیشنل پارٹی نے بھی اپنے فیصلے اور حمایت سے رجوع کر لیا ہے ۔حالاں کہ ان کے ایک رکن رحمت بلوچ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی شریک تھے ۔نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے 12 جولائی کو بل بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔ سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے عدالت سے رجوع کیا ۔بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ میر اسد بلوچ نے بھی اسمبلی فلور پر مائنز اینڈ منرل بل کی مخالفت کی اور کڑی تنقید کی کہ پہلے بل کی منظوری میں معاونت کی اور اب مخالفت کی جارہی ہے ۔سردار اختر مینگل کی جماعت کے ایک رکن اسمبلی جہانزیب مینگل جو بل کی منظوری والے دن اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر یا رخصت پر تھے، انہیں پارٹی نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے ۔
حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمن بھی بل کی مخالفت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ البتہ جماعت اسلامی کے مجید بادینی چونکہ حکومت کا حصہ ہیں ،وہ اس منظرنامے میں خاموش ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں تین ارکان ہیں یہ جماعت حزب اختلاف کا حصہ تو ہیں لیکن ان کا واضح جھکاؤ حکومت کی طرف ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی تنظیم مائنز اینڈ منرل بلز کی مخالفت اورخیبر پشتو خواہ میں واضح مخالفت میں کھڑی ہے ۔مگر بلوچستان اسمبلی میں اے این پی اپنی مرکزی تنظیم سے موافق کھڑی دکھائی نہیں دیتی ۔یعنی حکومت کی حامی ہے ۔اے این پی نے اپنے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا اعلان کیا تھا ،لیکن نوٹسز جاری کیے گئے اور ان پرارکان کا کیا جواب آیاکچھ پتہ نہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے 14 جولائی 2025 کو بل بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ۔ان کی جانب سے پیروی ساجد ترین ایڈوکیٹ اور سابق ایم این اے آغا حسن ایڈوکیٹ کریں گے ۔دونوں وکیل اور بی این پی کے مرکزی عہدے دار ہیں ۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بھی 4جولائی کو بل چیلنج کیا ہے ۔ سیاسی سطح پر سڑکوں چوراہوں پر اب تک اس بل کی مخالفت میں سرگرمیاں دکھائی نہیں دی رہی ۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی زیارت میں نایاب قیمتی صنوبر جنگلات کے ایک لاکھ 77ہزار مربع ایکڑ کی الاٹمنٹ کی بھی مخالفت کررہی ہے اور اسے غیر آئینی وغیر قانونی قرار دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے 18جولائی کو احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد میں ایک بیان میں احتجاجی مظاہرے کو ملتوی کیا گیا ،کہ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بنچ نے 14 جولائی کو مائنز اینڈ منرل بل کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔ کیس کی اگلی سماعت اکیس جولائی کو ہوگی ۔ بینچ نے ایکٹ کے خلاف تمام دائر درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ گویامخالف جماعتوں نے عدالتوں پر اعتماد کر رکھا ہے ۔ سونگاہیں عدالت عالیہ بلوچستا ن کی سماعتوں اور فیصلے پر مرکوز ہیں ۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔





















