امریکہ کی عدالت نے 9/11 کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے الزامات کے اعتراف کے بدلے میں سزائے موت ختم کرنے کے معاہدے کی درخواست کو مسترد کر دیاہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالت کے جج پٹریشیاملیٹ اور نئومی راؤ نے فیصلہ سناتے ہوئے وزیر دفاع کے فیصلے کو قانونی جواز فراہم کرتے ہوئے نومبر 2024 کے فوجی جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ۔ امریکی عدالت نے خالد شیخ اور دیگر دو ملزمان کیخلاف دو ایک سے فیصلہ سنایا۔
گزشتہ سال خالد شیخ اور امریکی حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا، معاہدے کے مطابق الزامات کے اعتراف پر ان کی سزائے موت ختم کردی جاتی اور خالد شیخ اور دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی جانا تھی۔
یاد رہے کہ اس قبل ایک فوجی عدالت نے مجرمان کے ساتھ ان معاہدوں کو مؤثر اور نافذ العمل قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع کو معاہدوں کو منسوخ کرنے سے روک دیا تھا۔ جس پر اپیل کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ فوجی جج کو نہ صرف اس فیصلے پر مزید سماعت سے روکا جاتا ہے بلکہ ملزمان کے کسی بھی جرم قبول کرنے یا معاہدے کے تحت کوئی بھی کارروائی کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
خالد شیخ اور دیگر دو افراد کو نائن الیون کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا، سنہ 2001 میں القاعدہ کے حملوں میں تقریباً 3000 افراد مارے گئے تھے، نائن الیون کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد 2003 سے گوانتانامو بے کے امریکی فوجی قید خانے میں قید ہیں۔
یاد رہے کہ یہ معاہدہ خالد شیخ محمد کے علاوہ دو دیگر ملزمان ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی کے ساتھ کیا گیا تھا۔






















