بھارت میں اپنے ہی شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے حسن شاہ نامی شہری کو مغربی بنگال سے حراست میں لیا اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور کشتی کے ذریعے بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب چھوڑ دیا۔
حسن شاہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے اور ان کے پاس شہریت کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن اپنے عروج پر ہے جہاں سیکڑوں مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک قرار دے کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ مئی اور جولائی 2025 کے درمیان 1,880 افراد کو بنگلہ دیش میں زبردستی پھینک دیا گیا جن میں سے 110 کو بنگلہ دیش نے "غلط طور پر دیے گئے بھارتی شہری" کے طور پر واپس بھیج دیا۔
رپورٹ میں بھارتی پولیس کے غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بھی شامل ہیں جیسے کہ شہریوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانا اور سرحد پار پھینکنا۔
یہ رپورٹ بھارت کی جانب سے شہریت کے متنازع قوانین اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں میں شدید عدم تحفظ پایا جا رہا ہے۔






















