قومی لباس میں ملبوس وکیل کو نجی ریسٹورنٹ میں داخل ہونے سے روکنے پر وکیل نے ریسٹورینٹ کے خلاف کنزیومر کورٹ سے رجوع کر لیا۔
کنزیومرکورٹ میں دائر درخواست میں عبدالطیف ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا ہے کہ وہ 18 مئی کو کھانا کھانے کیئے نجی ریسٹورینٹ میں گیا تو ویٹر نے سروس دینے اور ٹیبل پربیٹھنے سے یہ کہہ کرروک دیا کہ یہاں ساری ایلیٹ کلاس آتی ہے یہاں شلوار قمیض پہننا منع ہے۔
عبدالطیف ایڈووکیٹ کا مؤقف ہے کہ اس نے ویٹر کی ہوٹل منیجر سے شکایت کی تومنیجر نے شلوار قمیض کو چیپ ڈریسنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تماشا نہ لگائیں ،ورنہ آپ کو زبردستی باہر نکال دیں گے۔
وکیل کا مؤقف ہے کہ اس توہین آمیز رویے پر ریسٹورینٹ انتظامیہ کو لیگل نوٹس بھی بھیجا لیکن ریسٹورینٹ انتظامیہ نے لیگل نوٹس کاجواب نہیں دیا لہذاعدالت سے اس استدعاہے کہ نجی ریسٹورینٹ کےخلاف کارروائی کیجائے کیونکہ ہوٹل انتظامیہ قومی لباس کی توہین کررہی ہے۔






















