وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے میں اپنی ہی پارٹی کی سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے نئے اضلاع اور تحصیلیں بنائیں مگر وسائل اور سہولیات کی فراہمی نہیں کی جس سے سالانہ 30 ارب روپے سے زائد ضائع ہو رہے ہیں۔
پشاور رنگ روڈ توسیع پراجیکٹ کی تقریب اور میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ صوبائی حکومتوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان کے ادوار ٹی ایم ایز (ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز) میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں اور ملازمین "نواب" بن کر کام سے گریز کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لینے والوں کو کام کرنا ہوگا ورنہ ڈیوٹی سے غفلت کرپشن کے مترادف ہے۔
علی امین نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو کئی ترقیاتی منصوبے 13 سال سے التوا کا شکار تھے جبکہ صوبے کے 4 اضلاع میں ڈی ایچ کیو ہسپتال تک موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ضلعی اور تحصیلی سطح پر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
علی امین نے پی ٹی آئی کی تحریک کو نظریاتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک جلد کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پورے پاکستان میں احتجاج کی تحریک شروع کی جائے گی اور احتجاج کی جگہ کا فیصلہ وہ خود کریں گے کیونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ بانی سے ملاقات کے لیے بھی رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
گورنر ہاؤس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر سے کوئی سیاسی ملاقات نہیں ہوئی اور بعض تصاویر کو سوشل میڈیا پر کاٹ کر غلط پیش کیا جا رہا ہے جبکہ وہ ملاقاتیں چھپاتے نہیں ہیں۔
علی امین نے کہا کہ ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی نہیں ہے اور قوم کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بات چیت کی ضرورت ہے۔



















