برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والی 17 ویں برکس سمٹ کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والی 17 ویں برکس سمٹ میں رکن ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا) نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں عالمی تجارت، مالیاتی اصلاحات، اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اہم موقف اپنایا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق برکس سمٹ میں امریکا کی یکطرفہ تجارتی محصولات پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا کے یکطرفہ اقدامات عالمی تجارتی اصولوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
برکس رہنماؤں کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا موجودہ کوٹہ اور ووٹنگ نظام عالمی اقتصادی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا۔
برکس رہنماؤں نے مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ غزہ میں تشدد کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ فلسطین میں ایک منصفانہ اور جامع حل کے ذریعے دیرپا امن کا حصول ضروری ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔






















