بھارت میں عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے دو بڑے ایکس اکاؤنٹس 'رائٹرز' اور 'رائٹرز ورلڈ' کو بلاک کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ اکاؤنٹس اب بھارتی صارفین کے لیے قابل رسائی نہیں ہیں جس سے صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے اس اقدام کو صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی بھارت میں میڈیا کی آزادی پر بڑھتی ہوئی قدغنوں کا حصہ ہے۔
مودی حکومت پر پہلے ہی میڈیا کو دبانے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے اور سوشل میڈیا پر سنسرشپ بڑھانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے بین الاقوامی میڈیا کو نشانہ بنایا ہو۔
اس سے قبل پاکستان، چین اور ترکی سے تعلق رکھنے والے متعدد میڈیا اداروں کے ایکس اکاؤنٹس کو بھی بھارت میں محدود یا بلاک کیا جا چکا ہے۔
پاک، بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی حکومت نے 8,000 سے زائد ایکس اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی تھی جن میں کئی غیر ملکی صحافتی اداروں کے اکاؤنٹس بھی شامل تھے۔
صحافتی آزادی کی تنظیمیں اسے بھارت میں میڈیا کے خلاف منظم حکومتی پالیسی کا حصہ قرار دے رہی ہیں۔
رائٹرز کی جانب سے تاحال اس پابندی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن عالمی سطح پر اس اقدام کی مذمت بڑھ رہی ہے۔






















