پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی سینئر قیادت اور پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے متضاد بیانات کو پارٹی میں اختلافات کی وجہ قرار دے دیا۔
بدھ کے روز پی ٹی آئی کی سینئر قیادت اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں کوٹ لکھپت جیل میں قید سینئر رہنماؤں کے حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے خط کا تذکرہ کیا گیا اور عامر ڈوگر نے اسیر رہنماؤں کا خط پڑھ کر سنایا۔
اجلاس کے دوران ارکان نے بجٹ منظوری سے پہلے بانی سے ملاقات نہ کرنے پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ جب بانی نے کہا کہ بجٹ منظوری سے قبل ملاقات کریں تو کیوں نہ کی گئی؟۔
اراکین کا کہنا تھا کہ متضاد بیانات کی وجہ سے پارٹی میں اختلافات ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں زرتاج گل اور علی محمد خان نے سیاسی سطح پر مذاکرات کی حمایت کی۔
اس حوالے سے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بیرسٹر گوہر کو فیصلے کرنا ہوںگے اور بانی کو مذاکرات کیلئے قائل کریں، مذاکرات ہونے چاہییں اور انکا راستہ کوئی راستہ نکالیں۔
علی محمد خان نے کہا کہ اسلام آباد کی بجائے احتجاج کیلئے پورے ملک میں لوگوں کو نکالا جائے۔
زرتاج گل کا کہنا تھا کہ بانی نے احتجاج کا کہا ہے اور ضلع اور تحصیل سطح پر احتجاج کیا جانا چاہییے، وفاق اور پنجاب میں مضبوط حکومتیں ہیں ، احتجاج منصوبہ بندی سے کرنا ہوگا۔
اجلاس کے دوران شاہد خٹک نے اعتراض اٹھایا کہ سیاسی کمیٹی نے کے پی بجٹ پاس کیا تو سلمان اکرم راجہ نے ٹویٹ کیوں کیا؟۔
شاہد خٹک کا کہنا تھا کہ بانی کی رہائی کیلئے کوشش کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کو غدار نہ کہا جائے۔
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر اسیران کی رہائی کی کوششوں کی قرارداد منظور کی گئی۔






















