ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اپنی ایٹمی تنصیبات کو "شدید نقصان" پہنچنے کی تصدیق کردی۔
عرب خبر رساں ادارے ’ الجزیرہ ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران پرامن جوہری توانائی کے حصول کے اپنے حق پر قائم رہے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا ایران کا پرامن جوہری توانائی کا حق غیر متزلزل ہے اور این پی ٹی (نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی) کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایٹمی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بقائی نے کہا کہ یہ "ثانوی مسائل" ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے حملوں کی مذمت کرے، جنہیں انہوں نے بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور اخلاقیات کے لیے "نقصان دہ دھچکا" قرار دیا۔
آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون پر نظرثانی
بقائی نے بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کی منظوری دی ہے، تاہم اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ "کیا یہ فطری نہیں کہ ایک ایسی قوم کے نمائندے جو ایک سنگین جارحیت کا شکار ہوئی ہے، آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں؟"۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون ایران کے مستقبل کے تعاون کے لیے شرائط طے کرتا ہے، جن میں ایرانی سائنسدانوں اور ایٹمی تنصیبات کی سلامتی کی ضمانت اور این پی ٹی کے تحت ایران کے حقوق کا احترام شامل ہے۔
جوہری تنصیبات کو "شدید نقصان"
بقائی نے تصدیق کی کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو "شدید نقصان" پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا "یہ بات یقینی ہے کیونکہ ہماری تنصیبات پر بار بار حملے کیے گئے ہیں۔"

تاہم انہوں نے اسے "تکنیکی معاملہ" قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اسے حل کر رہی ہے۔
امریکہ پر اعتماد ختم
بقائی نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کہ امریکہ مستقبل میں ایران کے ساتھ "کسی قسم کا رشتہ" قائم کر سکتا ہے، کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی "متضاد باتوں" اور اسرائیل کو حملوں کی اجازت دینے سے کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ "امریکہ نے سفارت کاری کو تباہ کر دیا ہے۔"
تاہم، انہوں نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ "سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی" اور وہ قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے امریکہ کی سنجیدگی کا جائزہ لینے کے بعد ہی دوبارہ رابطہ کرے گا۔
جنگ سے "بہت نقصان" ہوا لیکن ایران "مضبوط" ہے
بقائی نے بتایا کہ قطر کے ذریعے امریکی رابطے کے بعد ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی قبول کی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے جنگ میں "بہت نقصان" اٹھایا لیکن وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔
انہوں نے کہا "ہمارے عوام کو اسرائیل کی جارحیت سے شہید کیا گیا، یہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں اور اسرائیل کو اس کا جواب دینا ہوگا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع میں اپنی استقامت ثابت کی۔





















