ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں بہت وقت ضائع کیا اور اب اسے آگے شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ ایران نے دیر کردی ہے ہم نے انہیں 60 دن کا وقت دیااور اب ہم ان کی دفاعی صلاحیت کو ختم کر چکے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ امریکہ ایران یا اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات تک پہنچ گئے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ بات کرنے میں بہت دیر ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب اور ایک ہفتہ پہلے کے درمیان بڑا فرق ہے کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔ ہم خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
View this post on Instagram
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کے لیے آنے کی تجویز دی تھی۔لیکن تفصیلات فراہم نہیں کیں ایران کو بات کرنے کا موقع دیا گیا مگر انہوں نے اس وقت بات نہیں کی، اب ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہےوہ غیرمشروط سرینڈر کریں۔
پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ آئی لو پاکستان، میں پاکستان سے بہت محبت کرتا ہوں، پاکستان ایک اہم ایٹمی طاقت ہے مجھے پسند ہے۔ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کو روکا ہے۔
روس یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یہ جنگ کبھی نہ ہوتی۔





















