دریائے سندھ پر چھ متنازع نہروں کی تعمیر کے معاملے نے سندھ میں سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس تناظر میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ اور قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو سے ٹیلی فونک رابطے کرکے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
رانا ثنااللہ کی مذاکراتی پیشکش
رانا ثنااللہ نے رہنماؤں سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ سندھ کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا جائے تو اس سے بھی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سندھ کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
جے یو آئی سندھ کا مؤقف
علامہ راشد محمود سومرو نے مذاکرات سے قبل متنازع نہروں پر کام فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مشاورتی عمل میں قوم پرست جماعتوں، سندھ کی دیگر سیاسی قوتوں اور وکلا کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی سندھ کا مؤقف ہے کہ "صوبے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔"
قومی عوامی تحریک کا ردعمل
ایاز لطیف پلیجو نے رانا ثناء اللہ سے گفتگو میں کہا کہ چھ نہروں کے فیصلے سے سندھ کے ساتھ "شدید ناانصافی" کی گئی ہے جس سے صوبے میں غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ پہلے نہروں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ سندھ اس وقت تمام فیصلے مشترکہ مشاورت سے کر رہا ہے اور نہروں کے معاملے پر کوئی یکطرفہ اقدام قبول نہیں کیا جائے گا۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا عزم
سید زین شاہ نے کہا کہ وہ "دریائے سندھ بچاؤ تحریک" میں شامل جماعتوں، وکلا ایکشن کمیٹی، کاشتکاروں اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد اپنا مؤقف واضح کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کو واپس لینے کا اعلان نہیں ہوتا ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔



















