جعفر ایکسپریس پر دہشتگردی کے ہولناک واقعہ کے بعد بلوچستان میں جس طرح کے احتجاجی حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ دراصل ریاست کا قانون کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف ایکشن کا ردعمل ہے۔ جعفر ایکسپریس پر دہشتگردی کے ناکام حملے جس میں بی ایل اے کے دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے کی سہولت کاری اور ملک اور بالخصوص بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کیلئے ملک دشمن قوتیں اکٹھی ہو چکی ہیں اور ان کا واحد ایجنڈا نام نہاد انسانی حقوق کے نام پر صوبے میں انارکی کی فضا کو ہوا دینا ہے- پہلے ان ملک دشمن قوتوں میں ماہ رنگ لانگو اور اس کی جماعت قومی یکجہتی کمیٹی نے حصہ ڈالا جس کے بعد پی ٹی آئی بھی میدان میں آئی اور اب اختر مینگل جیسے مفاد پرست، کرپٹ اور ملک دشمن افراد بھی منظر عام پر نظر آتے ہیں۔
جعفر ایکسپریس پر دہشتگردی کے حملے سے لیکر اب تک کے منظر نامے کو دیکھا جائے تو ساری بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اختر مینگل سمیت دیگر انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ایک ایسی ملک دشمن خاتون کیلئے تحریک چلانے میں مصروف ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے ایماء پر سرگرم ہے، ان سے فنڈنگ حاصل کرتی ہے اور بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی سے روابط رکھتی ہے۔ اختر مینگل اور دیگر انسانی حقوق کے علمبرداروں سے پوچھا جائے کہ کیا دہشتگردوں کی سہولت کاری کرنے والوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔۔۔؟ کیا سول ہسپتال پر حملہ کرکے دہشتگردوں کی لاشوں کو قبضے میں لینے والوں کیخلاف قانون حرکت میں نہ آئے؟ اور کیا صوبے میں متحرک بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیم کی سہولت کاری کرنے والی خاتون کو انسانی حقوق کے نام پر چھوڑ دیا جائے۔؟۔
ایسے تو کل فتنہ الخوراج کے لوگ بھی احتجاج شروع کردینگے اور دیگر دہشتگردی کی تنظیمیں بھی یہی راستہ اپنا لیں گی تو کیا یہ لوگ ملک کو بنانا بنانا چاہتے ہیں؟
ماہ رنگ لانگو کی گرفتاری بلا جواز نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق ماہ رنگ لانگو سمیت 150 افراد کے خلاف مردہ خانے سے لاشیں زبردستی لے جانے، تشدد پر اکسانے اور دیگر مبینہ جرائم کے الزامات میں ایف آئی آر درج کی گئی ۔ یہ مقدمہ دراصل سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک مذموم واقعے سے منسلک ہے، جہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرپسندوں نے مردہ خانے پرحملہ کیا اور اس ماہ کے شروع میں جعفر ٹرین آپریشن میں مارے گئے پانچ دشت گردوں کی لاشیں نکال کر لے گئے۔
اس کے علاوہ ماہ رنگ لانگو پرسریاب پولیس سٹیشن میں 22 مارچ کو درج کی گئی ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات میں دہشت گردی، قتل اور قتل کی کوشش، تشدد اور بغاوت پر اکسانا، بدامنی پیدا کرنا اور نسلی منافرت کو فروغ دینا شامل ہیں۔
اس ایف آئی آر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کئی دیگر ممبران کے نام بھی شامل ہیں، جن میں بیبو بلوچ، گلزادی ستاکزئی، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ، گلزار دوست، ریاض گشکوری اور ڈاکٹر شالی بلوچ شامل ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مہرنگ لانگو اور دیگر 17 افراد کو گرفتار کیا اور انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے سیکشن 3 کے تحت کوئٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں رکھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے شرپسندوں کو پولیس افسران، راہگیروں اور اپنے ہی مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے لیے اکسایا، جس کے نتیجے میں تین افراد مارے اور 15 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
بریوری پولیس سٹیشن میں بھی بی وائی سی کے گلزادی بلوچ، علی جان، شعیب، سید نور شاہ، وحید، جہانزیب، زوہیب بلوچ اور دیگر 100 سے زائد افراد کے خلاف کوئٹہ میں مغربی بائی پاس روڈ بلاک کرنے، ریاست مخالف نعرے لگانے اور عوامی اضطراب پیدا کرنے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
یہ تمام مقدمات تعزیرات پاکستان اور قانون کے مطابق درج کئے گئے ہیں اور ان پر اختر مینگل اور دیگر انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کی جانب سے واویلا کرنا بلاجواز اور ایک طرح سے ملک دشمنی ہے۔ کیا ریاست کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے قانون میں رہتے ہوئے اقدامات کرے۔۔۔۔؟ کیا ریاست ماہ رنگ لانگو اور اس جیسے دیگر شرپسندوں کو کھلی چھٹی دیکر صوبے کا امن تباہ کرے۔۔۔۔۔۔؟ اختر مینگل جیسے مفاد پرستوں اور دیگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی شخص ریاست سے بالاتر نہیں ہوتا جو بھی قانون توڑے گا ریاست اس کیخلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
اختر مینگل اپنی دھرنا ناکامی کے بعد بی واے سی کے ساتھ ملکر انتشار پھیلانا چاہتا ہے تاکہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اسکو ایسا کرنے سے روکیں تو یہ ریاست مخالف لوگوں کے ساتھ ملکر اُس پر اپنی سیاست کر سکے اور ملک کے اندر اور باہر بیٹھی ملک دشمن قوتیں انسانی حقوق کا واویلا مچا سکیں- پاکستانی قوم ان ملک دشمن چہروں کو اچھی طرح پہچان چکی ہے اور انکے گھٹیا اور جھوٹے پروپیگنڈے کو بھی پوری طرح سمجھتی ہے۔