اس وقت امریکہ و ایران کی صورتحال بہت کشیدگی کا شکار ہے،امریکی صدر نے امام خامنہ ای کو دھمکی امیز خط لکھا جس میں واضح پیغام دیا گیا کہ جوہری ہتھیار کا معاہدہ کریں یا پھر جنگ کیلئے تیار ہو جائیں ، ایران نے امریکہ کوخط کے جواب میں بلاواسطہ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہونے کا عندیہ دیا۔ اب نتائج کیا ہوں گے اس پر بات کرنا قبل ازوقت ہے لیکن اگر ایران مذاکرات نہیں کرتا جنگ کی طرف جاتا ہے پھراس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں اگر مذاکرات میں جاتا ہے تو ایران کا خطے میں کیا اثر باقی رہے گا ان دونوں صورتوں میں پاکستان کہاں پر ہوگا اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
ایران و سعودیہ عربیہ کی آئیڈیاجیکل وار کئی دہائیوں سے چل رہی ہے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایران امریکہ کیساتھ جنگ میں چلا جاتا ہے اور دفاعی پوزیشن اختیار کرکے نیو کلیئر پاور کا اعلان کر دیتا ہے پاکستان کو فائدہ ہوگا یا نقصان ہوگا، ایران کا نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنا صرف مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو خراب نہیں کرے گا بلکہ اس سےجنوبی ایشیا بھی شدید متاثر ہوگا سعودی عرب اور اسرائیل کے لیے خطرہ تو ہوگا ساتھ میں پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی جغرافیائی سیاسی چیلنجز پیدا کرے گی۔
اگر ایران نیوکلیئر پاور بننے کا اعلان کرتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی سعودی عرب، ترکی اور دیگر خلیجی ممالک بھی نیوکلیئر پروگرام شروع کر دیں گے اور یہ خطہ مسلسل جنگ میں چل جائے گا۔سعودی عرب امریکہ کا اتحاد ی ہے ایران کے نیو کلیئر پاور بنتے ہی سعودی نیو کلیئر کی دوڑ میں جائے گا متحدہ عرب امارات بھی امریکہ کا اتحادی ہے وہ بھی اسی دوڑ میں شامل ہوگا سعودی عرب بیلنس آف پاور کی پوزیشن اختیار کرنے کو جواز بنائے گا، کیونکہ یمن کبھی بھی بفر زون میں نہیں جائے گا وہاں ایران کا اثرو روسوخ زیادہ ہے۔
دوسری طرف ایران کا بارڈرپاکستان کیساتھ ہے پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکاررہے ہیںایران کا نیو کلیئر پاور بننا پاکستان کیلئے کئی چیلنجز پیدا کرے گا، سرحد پر سیکیورٹی کا مسئلہ ہوگا اگر ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی یا فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہوتے ہیں ایران کا نیوکلیئر ہتھیار خطے میں ایک نیا اسٹریٹیجک چیلنج ہوگا۔
بھارت کیساتھ ایران کے قریبی اقتصادی ،دفاعی اور چاہ بہار بندرگاہ جیسے مشترکہ منصوبے ہیں، جس سے بھارت کو فائدہ ہوگا اور پاکستان کے لیے جیوپولیٹیکل چیلنجز بڑھ جائیں گےاور پورے خطے میں عسکریت پسندی اور پراکسی وار شروع ہو جائیں گی کیونکہ ایران اپنی جوہری صلاحیت کو خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے استعمال کر ے گا جس کا نقصان سیدھا افغانستان، شام، یمن اور پاکستان کو ہوگا۔ پاکستان سعودیہ کا اتحاد ی اور قریبی تعلقات رکھنے والا ملک ہے،سعودی ایران کے نیو کلیئر پاور کو خود کا خطرہ سمجھے گا تو وہ پاکستان سے اسٹریٹیجک تعاون اور عسکری مدد مانگے گا جس کیلئے پاکستان مزید مشکل میں پھنس جائے گا۔
اب ایک صورتحال جو بہت مشکل ہے اس کو سمجھتے ہیں اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے، تو پاکستان کی جو پوزیشن ہوگی، اسے Strategic Depth کی کمی کہا جائے گا پاکستان کی مشرق سے مغرب تک چوڑائی کم ہے اگر بھارت مشرقی سرحد سے حملہ کرتا ہے تو پاکستان کے مین شہرلاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فوجی انفراسٹرکچر دشمن کے حملے کی زد میں آ جائیں گے۔ اس صورتحال کو Lack of Strategic Depth کہا جاتا ہےیعنی پاکستان کے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے زیادہ جغرافیائی گنجائش نہیں ہے جو جنگی منصوبہ بندی میں ایک چیلنج ہے۔
اب دوسری صورت چونکہ پاکستان کے مغرب میں ایران ہے اگر بھارت حملہ کرتا ہے اور ایران کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو پاکستان کو Two-Front War کا سامنا ہوگا۔بالفرض ایران و افغانستان کیساتھ مسئلہ ہوتا ہے اور بھارت حملہ کرتا ہے تب پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن Strategic Sandwich ہوگی اس کا مطلب ہوگا کہ پاکستان کو بیک وقت مشرق میں بھارت، مغربمیں ایران اور شمال مغرب افغانستان کےکسی ممکنہ خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان اپنیDefensive Positionمضبوط کرنا ہوگی ۔
ایران کا نیوکلیئر بننا مشکل نظر آرہا ہےکیونکہ ایران وہ واحد ملک ہے جس کی سرحدی ممالک کیساتھ کبھی نہیں بن پائی ، پاکستان، افغانستان، ترکمانستان، آذربائیجان، آرمینیا، ترکی اور عراق کیساتھ کشیدگی رہی ہے، چین پاکستان کا اتحادی ہے پاکستان نے کبھی چین سے خطرہ محسوس نہیں کیا لیکن ایران پراکسی وار کرنے والا ملک ہے وہ ہر صورت میں یہاں جنگ کا ماحول بنا دیگا پہلے ان کی آئیڈیالوجیکل وار چل رہی ہے پاکستان میں بھی شیعہ سنی فسادات کبھی نہیں رکے، امریکہ و مغرب پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کرٹیکل ماس کو سائیڈ لائن کرے نہیں تو ہم اڑا کر رکھ دیں گے۔